فروری 1, 2026

جھوٹے پروپیگنڈے کا جواب — حقیقت سامنے رکھو!

اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) — حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک مخصوص مہم کے تحت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی ایک پرانی تصویر کو موجودہ سیاسی حالات سے جوڑ کر گمراہ کن انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ بعض سوشل میڈیا صارفین اور پیجز اس تصویر کو اسلام آباد میں جاری احتجاج یا کسی نئی سیاسی ملاقات سے منسلک کر کے غلط تاثر پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ یہ تصویر کئی ماہ پرانی ایک ملاقات کی ہے جسے حالیہ حالات کے ساتھ جوڑنا سراسر جھوٹا پروپیگنڈا ہے۔ قریبی ذرائع کے مطابق، مولانا فضل الرحمٰن کی وہ ملاقات ایک غیر سیاسی موقع پر ہوئی تھی اور اس کا موجودہ صورتحال یا کسی احتجاجی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پر جھوٹی اور گمراہ کن خبروں کے پھیلاؤ میں تیزی آئی ہے، جو نہ صرف عوامی رائے کو متاثر کرتی ہیں بلکہ سیاسی ماحول میں انتشار بھی پیدا کرتی ہیں۔ اسی طرح کے جعلی دعوے اور پرانی تصاویر بارہا نئے تناظر میں استعمال کی جاتی ہیں تاکہ مخصوص سیاسی مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حصہ ہے، مگر جھوٹ پھیلانا، کردار کشی کرنا اور پرانی تصاویر کو حالیہ واقعات سے جوڑنا اخلاقی دیوالیہ پن کے مترادف ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر آنے والی کسی بھی خبر یا تصویر کو بغیر تصدیق کے آگے نہ پھیلائیں اور صرف مستند ذرائع پر بھروسہ کریں۔

حقیقت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جس تصویر کو لے کر پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، وہ موجودہ حالات سے متعلق نہیں بلکہ ماضی کی ایک نجی ملاقات کی ہے۔ جھوٹے پروپیگنڈے کے مقابلے میں درست معلومات کا فروغ ہی صحافت اور سماجی ذمہ داری کا تقاضا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Copyright © 2025 SK Media Studio | All Rights Reserved | Newsphere by AF themes.